Tuesday, October 23, 2012

ہندی ناول "مائی"مصنفہ گیتانجلی شری ، ترجمہ: بشیر عنوان تبصرہ:اشتیاق خان


ماں کے موضوع کو دنیا کے مختلف ادیبوں نے برتا ہے ۔خواہ روسی ادیب گورکی ہوں ،فرانس کے موپاساں،یا پاکستان کے قدرت اللہ شہاب ۔ ماں کے موضوع پر ان کی تحریریں ادب کا شہ پارہ ہیں ۔
ہندوستان کی ادیبہ گیتانجلی شری نے بھی ماں کو "مائی"کے عنوان سے اپنی تحریر کا موضوع بنایا ہے ۔یہ ناول ہندی ادب کے شاہکار کی حیثیت رکھتا ہے، جس نے ہندی اشاعت کے دس سال بعد انگریزی،فرانسیسی اور کوریائی زبانوں میں ترجمہ ہو کر چہار جانب سے تحسین حاصل کی ۔ مصنفہ کو اس ناول پر "اندو شرما"ایوارڈ سے بھی نوازا گیا ۔
ڈاکٹر آصف فرخی نے اس ناول کی اہمیت کے پیشِ نظر اس کا اردو ترجمہ کہنہ مشق ادیب و مترجم بشیر عنوان سے کروا کر ادارے "شہرزاد"کے تحت شائع کیا ہے۔اس ناول کا دیباچہ جناب انتظار حسین نے لکھا ہے ۔یہ ناول بظاہر سیدھے سادے ہندو گھرانے کی کہانی ہے جو ایک مختصر پلاٹ پر مبنی ہے ۔اس کہانی میں قابلِ ذکر چھ کردار ہیں ۔ دادا،دادی ان کا بیٹا بابو ،ان کی بہو مائی،پوتا سبود ھ اور پوتی سنینا۔دیگرکردار جگنو کی طرح جھلک دکھا کر غائب ہوجاتے ہیں ،سنیناکے علاوہ کوئی کردار تادیر نہیں رہتا ۔رہی مائی ،تو سارا ناول اس ہی کے گرد گھومتا ہے۔
چھوٹی چھوٹی تفصیلات کی مدد سے ہندوستانی معاشرے کی پیچیدہ پرتوں کو جس خوبی اور سادگی سے بیان کیا ہے اس سے مصنفہ کی زبان و بیان پر ماہرانہ دسترس کا پتا چلتا ہے ۔
اس تہذیب نے جہاں مسلم تمدن سے اثرات لئے ہیں وہیں اپنا رنگ مسلم سماج پر بھی ڈالا ہے۔ اسی وجہ سے یہ کہانی ہمیں اپنی اپنی سی لگتی ہے۔مشرقی معاشرے میں ماں ایثار و قربانی کی علامت ہے ۔شادی ہوکر نئے گھر میں داخل ہونے کے بعد جس قربانی کا مظاہرہ "مائی" کرتی ہے یہ ہندو ستانی سماج میں کوئی انہونا واقعہ نہیں ہے مگر مصنفہ نے اس عام واقعے کواس خوبی سے برتا ہے کہ وہ ہندوستانی تہذ یب کا نمائندہ کردار بن کر سامنے آتا ہے ۔
ارتھ شاستر میں چانکیہ کوتلیہ لکھتا ہے کہ " اغیار کو زیر کرنے کی تمام کوششیں ناکام ہوجائیں تو اپنی بیٹیاں انہیں بیاہ دی جائیں ۔ اغیار کی بیٹیوں سے بیاہ کرنے سے اجتناب کیا جائے"۔ اس فلسفے کے پیچھے غالباً یہ خیال کارفرما ہے کہ آئندہ نسل کی تربیت چونکہ ماں کے مرہونِ منت ہوتی ہے لہٰذا ایک نسل کے وقفے کے بعد غالب مغلوب ہوجائے گا ۔ہندوستان کی تاریخ میں یہ عمل جگہ جگہ نظر آتا ہے ۔غالباً یہی تاریخی جبر ہے جس سبب سے ہندستانی معاشرے میں بیٹیوں کے والدین نہ صرف رشتے کی تلاش بلکہ لڑکے والوں کے مطالبات بھی پورے کرتے ہیں ۔جہیز کے نام پر اپنی بساط سے بڑھ کر دیتے ہیں اور بیٹیوں سے تقریباً رشتہ منقطع کرلیتے ہیں۔ یہی وجہ ہوگی کہ بیٹیوں کی شادی کے مواقعوں پر رنج و الم کا راج غالب ہوتا ہے۔
اس ناول میں یہ سب کچھ بین السطور بیان کیا گیا ہے ،اگر عام قاری اسے دوبارہ پڑھے تو ہندوستانی سماج کی یہ پیچیدہ پرتیں آشکار ہوجاتی ہیں ۔
اس سلسلے میں مترجم کے ترجمے کے فن پر دسترس کا بھی اعتراف کرنا پڑے گا کیونکہ اصل ناول کے ہندی رس کو برقرار رکھتے ہوئے فنی نزاکتوں کو ملحوظ رکھنا بھی آگ کا دریا عبور کرنے کے مترادف تھا۔مترجم اس بارے میں کچھ لکھ دیتے تو ترجمے سے شغف رکھنے والوں پر ترجمے کے کٹھن مراحل آشکار ہوجاتے ۔بہر حال ترجمے کی راہ پر نئے آنے والوں کے لئے یہ ترجمہ کلید کا درجہ رکھتا ہے۔

0 کمینٹس:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔