Monday, June 24, 2013

میرپورخاص: رواں سال آم کی فصل میں کمی

آم اپنے رنگ خوشبو اور ذائقے کے لحاظ سے ایک منفرد حیثیت رکھتا ہے۔ گرمیوں (مئی، جون) کے موسم میں آموں کا سیزن شروع ہوتے ہی بازاروں میں جیسے بہار آجاتی ہے۔ پھلوں کی دکانوں اور ٹھیلوں پر مختلف اقسام کے آم انتہائی خوبصورتی کے ساتھ سجے ہوئے نظر آتے ہیں۔ جو بازار سے گزرنے والے ہر شخص کو اپنی جانب متوجہ کرتے ہیں۔ آم کی ابتدا برما سے ہوئی جس کی کچھ اقسام ملایا میں بھی کاشت کی جاتی ہیں اسی لیے ملایا کو آم کا بنیادی گھر کہا جاتا ہے۔ برصغیر میں آم کی کاشت مغلیہ دور حکومت میں شروع ہوئی۔ ایشیا، انڈونیشیا، تھائی لینڈ، فلپائن، ملائیشیا، سری لنکا، مصر، امریکہ، اسرائیل، فلوریڈا، برازیل اور ویسٹ انڈیز میں بھی آم کی کاشت کی جاتی ہے، پاکستان میں دیگر پھلوں کی پیداوار دوسرے نمبر پر ہے، مٹھاس اور بہترین ذائقے کے باعث آم کو پھلوں کا بادشاہ کہا جاتا ہے۔ وادی مہران کی خوبصورت سرزمین اور سندھ کا چوتھا بڑا شہر میرپور خاص اپنی تہذیب‘ ثقافت اور آم کے حوالے سے پوری دنیا میں ایک منفرد حیثیت رکھتا ہے۔ مختلف شعراء نے اپنی رومانوی شاعری میں بھی اسے جگہ دی ہے۔شاعر مشرق علامہ اقبال نے دوران بیماری معالج کے مشورے کو نظر انداز کرتے ہوئے آم استعمال کئے جبکہ اسد اللہ غالب تو آم کے شیدائی تھے۔
میرپور خاص ضلع میں آم مئی کے ابتدائی دنوں میں مارکیٹ میں آجاتا ہے اور اکتوبر کے آخر تک فروخت ہوتا ہے۔ آم کی فصل مارکیٹوں میں آنے کے بعد گوشت، سبزی، اور دیگر پھلوں کا استعمال کم ہو جاتا ہے۔ گھروں میں کچے آم سے تیار کردہ اچار، چٹنی اور مربے کا استعمال بڑھ جاتا ہے، آموں کی دو سو سے زائد اقسام ہیں مگر ان میں بیس اقسام کے آم کو تجارتی بنیاد پر کاشت کیا جاتا ہے۔ آم کی ملکی برآمدات میں سندھ کا حصہ تقریباً 40فیصد ہے۔ آموں کی مشہور اقسام میں سندھڑی، نیلم، چونسا، انور رٹول، دوسہری، بیگن پھلی، انفانسو، گلاب خاصہ، زعفران، لنگڑا، سرولی، اور دیسی آم شامل ہیں۔ جن میں سندھڑی آم اپنی مٹھاس‘ خوشبو‘ وزن اور ذائقے کے اعتبار سے آموں کا شہنشاہ کہلاتا ہے۔
سندھڑی آم کی تاریخ ایک سو سال پرانی ہے۔ جب انڈیا کے شہر مدراس سے سندھ ہارٹی کلچر ریسرچ انسٹیٹیوٹ میں سندھڑی آم کے پودے منگوائے گئے اور سابق وزیراعظم پاکستان محمد خان جونیجو کے والد اور سابقہ ضلع ناظمہ ڈاکٹر صغریٰ جونیجو کے دادا جناب دین محمدخان جونیجو نے اپنے فارم پر اس کی کاشت کی اور اپنے گاؤں سندھڑی سے محبت کے حوالے سے اس کا نام سندھڑی تجویز کیا اس طرح وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ آم کی یہ جنس اس علاقے کی شناخت بن گئی ۔
   تین سو سترایکڑ اراضی پر سندھ ہارٹیکلچر انسٹی ٹیوٹ میرپور خاص نے مختلف اقسام کے آم پر تحقیق اور پیوند کاری کر کے 125 سے زائد نئی اقسام مارکیٹ میں متعارف کرائی ہیں۔ آم کی دو اقسام ہوتی ہیں جنہیں قلمی اور دوسرے کو دیسی کہا جاتا ہے قلمی آموں میں بھورا، سندھڑی، کالا سندھڑی، بیگن پھلی، دوسہری، الفانسو، ثمر، بہشت، طوطا پری، سبز، انور رٹول، چونسہ، دل آرام، سرولی، ثریا، پونی، حبشی سرولی، لنگڑا، کلکٹر، بادامی فجری، نیلم، بھرگڑی، سفید الماس، زہرہ، شام سندر، سیاہ مائل، زعفران، جبل پوری، جاگیردار، شہنشاہ، انمول اور دیگر شامل ہیں۔ جب کہ دیسی آم میں پتاشہ، لڈو، گلاب جامن، سفید گولا، سبز گولا اور سندوری وغیرہ شامل ہیں۔ قلمی آم دیسی آم کے مقابلے میں بڑے خوبصورت اور ذائقہ دار ہوتے ہیں۔ میر پور خاص میں آموں کی بہترین پیداوار حاصل کرنے والے کا چیلو فارم، نواز آباد فارم، اسد جونیجو فارم، بھگیو فارم، گل محمد رند فارم، جاوید جونیجو فارم، سید عنایت علی شاہ فارم، مصری فارم، گبول فارم، لغاری فارم اور بھرگڑی فارم شامل ہیں ان فارمز کے کاشتکاروں نے زراعت اور آموں کی نئی اقسام دریافت کرنے میں نمایاں خدمات انجام دی ہیں۔ میرپورخاص ضلع میں ہر سال ماہ جون میں آموں کی نمائش کا انعقاد ہوتا ہے اور یہ سلسلہ 1965ء سے شروع ہوا اور آج تک جاری ہے۔میرپورخاص ضلع میں 12140 ہیکٹر رقبے پر آموں کے باغات تھے تاہم 2011ء میں ہونے والی طوفانی بارشوں اور سیلاب سے آموں کے باغات بھی شدید متاثر ہوئے ہیں ۔ کاشتکاروں کا کہنا ہے کہ چونکہ میرپورخاص ناراکینال کے ٹیل میں واقع ہے اس لئے سال کے آٹھ مہینے یہاں پانی کی قلت رہتی ہے جس کی وجہ سے فصلوں کو شدید نقصان پہنچتا ہے اور رواں سال بھی پانی کی قلت کے باعث آموں کی پیدوار میں کمی کا سامناہے۔

مکمل تحریر  »

Tuesday, October 23, 2012

ہندی ناول "مائی"مصنفہ گیتانجلی شری ، ترجمہ: بشیر عنوان تبصرہ:اشتیاق خان


ماں کے موضوع کو دنیا کے مختلف ادیبوں نے برتا ہے ۔خواہ روسی ادیب گورکی ہوں ،فرانس کے موپاساں،یا پاکستان کے قدرت اللہ شہاب ۔ ماں کے موضوع پر ان کی تحریریں ادب کا شہ پارہ ہیں ۔
ہندوستان کی ادیبہ گیتانجلی شری نے بھی ماں کو "مائی"کے عنوان سے اپنی تحریر کا موضوع بنایا ہے ۔یہ ناول ہندی ادب کے شاہکار کی حیثیت رکھتا ہے، جس نے ہندی اشاعت کے دس سال بعد انگریزی،فرانسیسی اور کوریائی زبانوں میں ترجمہ ہو کر چہار جانب سے تحسین حاصل کی ۔ مصنفہ کو اس ناول پر "اندو شرما"ایوارڈ سے بھی نوازا گیا ۔
ڈاکٹر آصف فرخی نے اس ناول کی اہمیت کے پیشِ نظر اس کا اردو ترجمہ کہنہ مشق ادیب و مترجم بشیر عنوان سے کروا کر ادارے "شہرزاد"کے تحت شائع کیا ہے۔اس ناول کا دیباچہ جناب انتظار حسین نے لکھا ہے ۔یہ ناول بظاہر سیدھے سادے ہندو گھرانے کی کہانی ہے جو ایک مختصر پلاٹ پر مبنی ہے ۔اس کہانی میں قابلِ ذکر چھ کردار ہیں ۔ دادا،دادی ان کا بیٹا بابو ،ان کی بہو مائی،پوتا سبود ھ اور پوتی سنینا۔دیگرکردار جگنو کی طرح جھلک دکھا کر غائب ہوجاتے ہیں ،سنیناکے علاوہ کوئی کردار تادیر نہیں رہتا ۔رہی مائی ،تو سارا ناول اس ہی کے گرد گھومتا ہے۔
چھوٹی چھوٹی تفصیلات کی مدد سے ہندوستانی معاشرے کی پیچیدہ پرتوں کو جس خوبی اور سادگی سے بیان کیا ہے اس سے مصنفہ کی زبان و بیان پر ماہرانہ دسترس کا پتا چلتا ہے ۔
اس تہذیب نے جہاں مسلم تمدن سے اثرات لئے ہیں وہیں اپنا رنگ مسلم سماج پر بھی ڈالا ہے۔ اسی وجہ سے یہ کہانی ہمیں اپنی اپنی سی لگتی ہے۔مشرقی معاشرے میں ماں ایثار و قربانی کی علامت ہے ۔شادی ہوکر نئے گھر میں داخل ہونے کے بعد جس قربانی کا مظاہرہ "مائی" کرتی ہے یہ ہندو ستانی سماج میں کوئی انہونا واقعہ نہیں ہے مگر مصنفہ نے اس عام واقعے کواس خوبی سے برتا ہے کہ وہ ہندوستانی تہذ یب کا نمائندہ کردار بن کر سامنے آتا ہے ۔
ارتھ شاستر میں چانکیہ کوتلیہ لکھتا ہے کہ " اغیار کو زیر کرنے کی تمام کوششیں ناکام ہوجائیں تو اپنی بیٹیاں انہیں بیاہ دی جائیں ۔ اغیار کی بیٹیوں سے بیاہ کرنے سے اجتناب کیا جائے"۔ اس فلسفے کے پیچھے غالباً یہ خیال کارفرما ہے کہ آئندہ نسل کی تربیت چونکہ ماں کے مرہونِ منت ہوتی ہے لہٰذا ایک نسل کے وقفے کے بعد غالب مغلوب ہوجائے گا ۔ہندوستان کی تاریخ میں یہ عمل جگہ جگہ نظر آتا ہے ۔غالباً یہی تاریخی جبر ہے جس سبب سے ہندستانی معاشرے میں بیٹیوں کے والدین نہ صرف رشتے کی تلاش بلکہ لڑکے والوں کے مطالبات بھی پورے کرتے ہیں ۔جہیز کے نام پر اپنی بساط سے بڑھ کر دیتے ہیں اور بیٹیوں سے تقریباً رشتہ منقطع کرلیتے ہیں۔ یہی وجہ ہوگی کہ بیٹیوں کی شادی کے مواقعوں پر رنج و الم کا راج غالب ہوتا ہے۔
اس ناول میں یہ سب کچھ بین السطور بیان کیا گیا ہے ،اگر عام قاری اسے دوبارہ پڑھے تو ہندوستانی سماج کی یہ پیچیدہ پرتیں آشکار ہوجاتی ہیں ۔
اس سلسلے میں مترجم کے ترجمے کے فن پر دسترس کا بھی اعتراف کرنا پڑے گا کیونکہ اصل ناول کے ہندی رس کو برقرار رکھتے ہوئے فنی نزاکتوں کو ملحوظ رکھنا بھی آگ کا دریا عبور کرنے کے مترادف تھا۔مترجم اس بارے میں کچھ لکھ دیتے تو ترجمے سے شغف رکھنے والوں پر ترجمے کے کٹھن مراحل آشکار ہوجاتے ۔بہر حال ترجمے کی راہ پر نئے آنے والوں کے لئے یہ ترجمہ کلید کا درجہ رکھتا ہے۔

مکمل تحریر  »

Wednesday, December 7, 2011

صدر پاکستان کی علالت


مہمند ایجنسی میں نیٹو کے جنگی طیاروں اور ہیلی کاپٹروں کے بلا اشتعال حملے کے نتیجے میں 24جوانوں کی شہادت کے بعد پاک فوج اور عوام کی جانب سے جو ردعمل سامنے آیا شاید بیرونی آقاؤں کے قدموں میں سجدہ ریز حکومت کو بھی اس ردعمل کی توقع نہ تھی۔میمو تنازعہ کے سامنے آنے کے بعدصرتحال مزید پیچیدہ ہوگئی جبکہ ایسا محسوس ہوا کہ بون کانفرنس میں شرکت کرنے سے انکارحکومت پاکستان پر گراں گذرا ہے لیکن شاید فرشتوں کے ڈر سے انہیں ایسا کرنا پڑا۔ 14پاکستانی سفیروں کی تبدیلی اور اب صدر پاکستان کی علالت کی خبریں سن کر محسوس ہوتا ہے کہ اب گھیرا تنگ ہوتا جارہا ہے۔کچھ اخبارات نے تو ان کے متوقع استعفیٰ کے حوالے سے بھی خبریں اپ ڈیٹ کی ہیں۔ دیکھئے کیا ہوتا ہے ویسے مبصرین وسیاسی تجزیہ نگاروں کی نظر میں ماہِ دسمبر بہت اہم ہے ، کچھ بھی ہوسکتا ہے۔

مکمل تحریر  »